177

ًًّّعمران پرتاپ گڑھی کی دل دہلا دینے والی نظم

نہ بزرگوں کے خوابوں کی تعبیر ہوں ۔۔۔۔نہ میں جنت سی اب کوئی تصویر ہوں
جس کو مل کر کے صدیوں سے لوٹا گیا ۔۔۔۔۔ میں وہ اجڑی ہوئی ایک جاگیر ہوں
ہاں میں کشمیر ہوں ہاں میں کشمیر ہوں

میرے بچے بلکتے رہے بھوک سے ۔۔۔ یہ ہوا ہے سیاست کی اک چوک سے
روٹیاں مانگنے پر ملیں گولیاں۔۔۔ چپ کرایا گیا مجھ کو بندوق سے
نہ کہانی ہوں نہ کوئی قصہ ہوں میں۔۔۔ مرے بھارت ترا ایک حصہ ہوں میں
جس کو گایا نہیں جا سکا آج تک ۔۔۔ ایسی اک ٹیک ہوں ایسی اک پیر ہوں
ہاں میں کشمیر ہوں، ہاں میں کشمیر ہوں

یوںمیرے حوصلے آزمائے گئے۔۔۔ میری سانسوں پہ پہرے بٹھائے گئے
پورے بھارت میں کچھ بھی کہیں بھی ہوا۔۔۔ میرے معصوم بچے اٹھائے گئے
یوں اجڑ میرے سارے گھروندے گئے۔۔۔ میرے جذبات بوٹوں سے روندے گئے
جس کا ہر لفظ آنسو سے لکھا گیا۔۔۔ خوں میں ڈوبی ہوئی ایسی تحریر ہوں
ہاں میں کشمیر ہوں ہاں میں کشمیر ہوں

میں بغاوت کا پیغام بن جاؤں گا۔۔۔ میں صبح ہوں مگر شام بن جاؤں گا
گر سنبھالا گیا نہ مجھے پیار سے۔۔۔ ایک دن میں ویتنام بن جاؤں گا
مجھے اک پل سکوں ہے نہ آرام ہے۔۔۔ میرے سرپر بغاوت کا الزام ہے
جو سنبھالی نہ جائے گی ہر ہاتھ سے۔۔۔ اے سیاست میں ایسی اک شمشیر ہوں
ہاں میں کشمیر ہوں، ہاں میں کشمیر ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں