129

کل بدلنا ہے – شکیل خان شکو

کل بدلنا ہے تو آج بدلنا ہو گا
ہمیں کہانی کا اپنی آغاز بدلنا ہو گا

پاس نہیں حکومت کے کچھ کہنے کو آج کل
ہمیں خود ہی اپنا ہر ایک سوال بدلنا ہو گا

زمانہ نہیں غافل تمہاری حرکتوں سے جناب
زمانے کے واسطے تم کو نقاب بدلنا ہو گا

اثر نہیں کرتی ہیں خبریں اخبار کی اب
لکھنے کا اب ہم کو انداز بدلنا ہو گا

قابلیت ، تعلیم نہیں اب ذات ہے ضروری
نوکری کی لیے ہم کو اب نام بدلنا ہو گا

تیرے لیے ہے کہا جگہ ان لوگوں کی درمیاں
نئی محفل کی لیے پِھر نیا لباس بدلنا ہو گا

اچھالنے سے پہلے کیچڑ یہ جان لو شکو
گر نظام بدلنا ہے تو خود کو بدلنا ہو گا

شکیل خان شکو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں