484

با اثر شخصیات اور سفارش

حکومت اور سرکاری اداروں پر تنقید ہماری عادت بن چکی ہے۔ بدقسمتی کا عالم یہ ہے کہ ہم ہر وقت حکومت کو کوسنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اپنی غفلت، کاہلی اور کوتاہیوں کا ذمہ دار بھی اداروں اور حکومت کو ٹہراتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ سویڈن جہاں بینک ہوں یا ہسپتال ، گاڑی پارک کرنے کیلئے اپنی باری کا انتظار ہو یا عام خریداری کی دکانیں، ہم لمبی قطاروں میں سکون سے کھڑے ہوکر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں وہیں پاکستانی سفارت خانے کا رخ کرتے ہی ہمارے روئیوں میں تبدیلی کیوں آجاتی ہے اور ہماری توقعات مختلف کیوں ہوتی ہیں۔ کیوں ہمیں اپنے کاموں کیلئے سفارش کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ براہِ راست سفارت خانہ جانے کے بجائے ہم با اثر شخصیات سے رابطہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ سفارش وہاں کی جاتی ہے جہاں آپ کو یہ پتہ ہوتا ہے کہ یہ کام قانونی عمل کے ذریعے ممکن نہیں اور جب سفارش کے باوجود ناکامی ہوتی ہیں تو تنقید کے اس عمل میں مزید تلخی آجاتی ہے۔
آج کی تحریر کا مقصد سویڈن میں مقیم پاکستانیوں کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مرکوز کرانا ہے جو کہ اس تمہید کے بغیر شاید ممکن نہ تھی۔ اکثر ایمرجنسی میں پاکستان جانے والے پاکستانیوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ بعض اوقات تو ان کے پاس ویزہ لینے کیلئے بھی وقت نہیں ہوتا۔ حال ہی میں ایک دوست سفارت خانے اور پاکستانی حکومت پر برہم نظر آئے تو جرت کر کے صرف یہ دریافت کرنے کی کوشش کی کہ کیا آپ کے پاس شناختی کارڈ، پاسپورٹ یا کوئی ایسا دستاویز ہے جو آپ کے پاکستانی ہونے کی تصدیق کر سکے کیونکہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں پاکستانی سفارت خانہ پاکستانیوں کی مدد کیلئے موجود ہے اور پاکستانی ہونے کا ثبوت دینا درخواست گزار کی ذمہ داری ہے۔
اس طرح کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت پاکستان نے اورسیز پاکستانیوں کیلئے نیکوپ کارڈ کی سہولت دے رکھی ہے ۔ بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کیلئے نیکوپ کارڈ کسی تحفے سے کم نہیں۔ NICOP کارڈ کے بہت سے فوائد میں سب سے بڑا فائدہ فری ویزا کا ہے ، یہ ہم سب جانتے ہیں کہ کسی بھی ملک میں سفر کرنے اور رہنے کیلئے اُس ملک کا ویزا ہوا لازمی ہے۔لیکن وہ پاکستانی جن کے پاس نیکوپ کارڈ موجود ہے وہ پاکستانی پاسپورٹ اور ویزا کے بغیر پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں اور پاکستان میں جب تک چاہیں قیام کر سکتے ہیں اور ان کو پاکستانی ہی تصور کیا جاتا ہے ۔ نیکوپ کارڈ بنیادی طور پر قومی شناختی کارڈ کا متبادل ہے۔ پاکستان میں جائیداد کی خرید و فروخت ہو یا پھر کوئی کاروبار نیکوپ کارڈ کو بطور قومی شناختی کارڈ استعمال کیا جاسکتا ہے۔
نادرا کی ویب سائٹ پر تارکین وطن کی سہولت کیلئے آن لائن درخواست سسٹم کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ جس کی اطلاع سویڈن میں سفارت خانہ پاکستان نے اپنی ویب سائٹ پر بھی شائع کی ہوئی ہے۔
اگر آپ نے ابھی تک نیکوپ کارڈ نہیں بنوایا ہے تو میرا مشورہ ہے کہ جلد از جلد درخواست داخل کر کے اپنا کارڈ بنوائیں تاکہ (خدا نخواستہ) کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں مزید پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مزید معلومات کیلئے اس لنک پر کلک کریں: Pakistan Embassy NICOP

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

4 تبصرے “با اثر شخصیات اور سفارش

  1. شکریہ جناب لیکن NICOP اور POC میں کیا فرق ہے ؟ کیا یہ فوائد POC کے تو نہیں جو آپ نے NICOP کے بتائے ہیں؟

  2. جناب وقار الحسن صاحب، نیکوپ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو جاری کیا جاتا ہے جبکہ پی او سی کارڈ ان لوگوں کیلئے ہے جو پاکستانی شہری تھے اور بعد میں انہوں نے کسی اور ملک کی شہریت اپنا لی۔ اور جہاں تک فوائد کی بات ہے وہ میں نے نیکوپ کے ہی بیان کیئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں