47

صدر ریاست اور مسئلہ کشمیر پر سفارت کاری

افکارتازہ: صدر ریاست آزادجموں کشمیر جناب سردار مسعود احمد خان کے حالیہ دورہ برطانیہ کے بعد مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کرنے کے حوالے سے ان کی کوششوں پر کئی حلقوں نے سوالات اٹھائے ہیں۔ خود صدر ریاست کو برطانیہ میں مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جب وہاں مقیم کشمیریوں نے ان سے آزادکشمیر حکومت کے کردار پر سوالات کیئے۔ روزنامہ اوصاف لندن کی خبر کے مطابق صدر آزادکشمیر کے اعزاز میں ہونے والی ایک تقریب میں برطانوی رکن پارلیمنٹ بیرسٹر عمران حسین کے والد اور ممتاز کشمیری رہنماء چوہدری الطاف حسین نے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ میں رواں سال مسئلہ کشمیر پر ہونے والی بحث میں آزادکشمیر حکومت کا کوئی کردار نہیں۔ اس پر تقریب میں بد مزگی بھی پیدا ہوئی جس کا ازالہ صدر آزادجموں کشمیر جناب مسعود احمد خان نے بعد میں ہونی والی ایک تقریب میں معافی مانگ کر کیا۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوااور اس میں جناب مسعود احمد کا کیا قصور ہے ۔ صورت حال یہ ہے کہ جب سردارمسعود احمد خان کو آزادجموں کشمیر کی کرسی صدارت پر بٹھایا گیا تو لوگوں کو ان سے بہت زیادہ توقعات تھیں کہ وہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں گے کیونکہ وہ بین الاقوامی امورکے ماہر ہیں۔وہ چین اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر رہے ہیں اوربین الاقوامی حالات کو بہت اچھی طرح سمجھنے کے ساتھ مشکل حالات میں سفارت کاری کا ہنر بھی جانتے ہیں ۔وہ اپنی ان ذاتی اوصاف اور خوبیوں کے باوجود مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر نہیں کرسکتے اور اس میں ان کاکوئی قصور نہیں بلکہ اصل مسئلہ حکومت آزادجموں کشمیر کی حیثیت کا ہے۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کشمیری رہنماء سید صلاح الدین کودہشت گرد قرار دینے کے خلاف صدر آزادکشمیر مسعود احمد خان نے ایک اپنا تفصیلی رد عمل میڈیا کو جاری کیا ہی تھا کہ ان سے اسلام آباد نے وضاحت طلب کرلی آپ یہ کیسے کرسکتے ہیں اور کہا گیا کہ اپنا بیان واپس لیں۔ مجبوراََ انہیں اپنا بیان واپس لینا پڑا اور میڈیا سے درخواست کی کہ اسے شائع نہ کیا جائے۔
سردار مسعود احمد خان کوآزادجموں کشمیر کے منصب صدارت پر بٹھایا گیا تب ۲۰ اگست ۲۰۱۶ء کے اپنے کالم بعنوان صدر بنایا ہے تو کردار بھی دیں، میں انہی خدشات کے پیش نظر گذارشات کیں کہ انہیں اس عہدے کا کردار اور اختیارات بھی دیئے جائیں بصورت دیگرسفارت کاری کا تجربہ اور ذاتی صلاحتیں کسی کام کی نہیں۔ جہاں تک بیرونی دوروں اور ان کی اپنے میڈیا میں تشہیر کا تعلق ہے تو یہ کام ساٹھ سال سے جاری ہے اور اگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا ہے اور نہ ہی آئندہ کوئی اثر ہوگا۔ یورپ میں کشمیری لوگوں کے اجتماعات میں شرکت ، سفارت خانہ پاکستان میں ہونے والی تقاریب اور کچھ یورپی نمائدوں سے ملاقاتیں کوئی قابل ذکرکارکردگی نہیں کیونکہ بہت سے کشمیری رہنماء اپنے طور پر یہ کام کررہے ہیں۔ ایک ریاست کے صدر اور عام سیاسی رہنماء کے دوروں میں فرق ہونا چاہیے۔ ایک بے اختیار ریاست کا صدر کرہی کیا سکتا ہے۔ساڑھے چار ہزار مربع میل پر مشتمل خطہ جسے آزادریاست جموں کشمیر کہا جاتا ہے اور جسے تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ قرار دیا گیا تھا لیکن یہ ایک برائے نام ریاست ہے جس کے پاس مقامی معاملات کے بھی اختیارات نہیں ۔ ایک چھوٹے سے خطہ پر چار حکومتیں مسلط ہیں ۔ ان چار حکومتوں میں آزادکشمیر حکومت، کشمیر کونسل، وزارت امور کشمیر اور وفاقی حکومت شامل ہے ۔صدر اور وزیر اعظم محض نمائشی ہیں اور اصل اختیارات تو چیف سیکریٹری کے پاس ہیں۔ دنیا میں اگر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا ہے اور عالمی حمایت حاصل کرنے سے قبل آزادکشمیر حکومت کی حیثیت کا تعین اور اسے باا ختیاربنانابہت ضروری ہے تاکہ وہ خود عالمی سطح اپنا مقدمہ پیش کرسکے۔ ہماری حکومت ترکی سے بہت متاثر ہیں اس لئے انہیں چاہیے وہ کہ ترکی سے ہی سبق سیکھ لیں جو جو طریقہ اس نے شمالی قبرص کے لئے اپنایا ہے وہی حکومت پاکستان آزادکشمیر کے لئے اختیار کرلیں۔ یہی ایک راستہ ہے جس پر چل کر مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جاسکتا ہے۔
پالیسی سازوں کو اچھی طرح علم ہے کہ دنیا کشمیر کی بات جب کشمیریوں کی زبان سے سْنتی ہے تو اس پر توجہ بھی دیتی ہے لیکن جب پاکستان بین الاقوامی دنیا میں کشمیر کی بات کرتا ہے تو اْسے کوئی شنوائی حاصل نہیں ہوتی اور دنیا اسے پاک بھارت تنازعہ سمجھ کر نظر انداز کردیتی ہے ۔ مسئلہ کشمیر کو پاک بھارت تنازعہ سے ہٹ کر کشمیری عوام کے غیر مشروط حق خود آرادیت کی بنیاد پر عالمی رائے عامہ کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔کشمیر میں بہنے والے خون اور جاری تحریک کو سفارتی محاد پر سرگرمی سے پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں