95

شمالی یورپ سے سوئٹزرلینڈ تک

جولائی سویڈن میں گرمیوں کی تعطیلات کا مہینہ ہوتا ہے اور لوگ چھٹیاں لے کر عمومی طور پر دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں حالانکہ موسم گرما سویڈن میں بہت خوشکوار ہوتا ہے۔ طویل اور شدید سردیوں کا موسم گذارنے کے بعد جی یہی چاہتا ہے کہ کہیں باہر جائیں لہذا اس بار ہم نے یہ طے کیاکہ سڑک سے سفر کرتے ہوئے جرمنی اور سوئیزرلینڈ جایا جائے ۔گویا ایک ہفتے میں پانچ ملکوں کی سیروسیاحت کا منصوبہ بنایا۔ سٹاک ہوم سے راجہ عبدالرحمن اور چوہدری عرفان نیاز بمعہ اہل وعیال اس سفر میں شامل ہونے کیلئے تیار تھے ۔ تین گاڑیوں پر مشمل ہمارا قافلہ شمالی یورپ سے وسطی یورپ کے راستہ سوئٹزرلینڈ کی جانب روانہ ہوا۔ سٹاک ہوم سے ساڑھے چھ سو کلومیٹر کا سفر طے کرکے ہم ڈنمارک پہنچے۔ سویڈن کے ساحلی شہر مالمو اور ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن پیگن کے درمیان آبنائے اوریسند پر تقریباََ سولہ کلومیٹر پل تعمیر کیا گیا ہے جو دونوں ممالک کے مابین آمدورفت کا سب بڑا ذریعہ ہے۔ اس پل کا افتتاح 2001 ء میں کیا گیا۔ اس پل کا چارکلومیٹرحصہ سمندر کے نیچے ایک سرنگ کی صورت میں ہے۔ ہمارا پہلا پڑاؤ ڈنمارک کے ساحلی قصبہ روڈبی تھا جہاں سے ہمیں اپنی گاڑیوں سمیٹ پون گھنٹہ کی فیری لے کر جرمنی کے ساحلی شہر پوٹ گارڈن پہنچنا تھا۔ ایک وقت میں یہ علاقہ مشرقی جرمنی کا حصہ تھا اور اس سے گذرتے ہوئے اب بھی اس دور کی یاد تازہ ہوتی ہے جب یہ کیمونسٹ بلاک میں شامل تھا۔ ہمیں چارسو کلومیٹر سفر طے کرکے جرمنی کے مشہور شہر برلن پہنچنا تھا جہاں شب گذاری کے بعد سفر جاری رکھنا تھا۔ جرمنی میں کشادہ سڑکوں کا جال بچھا ہوا ہے اور یہاں کی موٹر وے کو آٹوبان کہتے ہیں جس پر رفتار کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ جرمنی میں پھیلے ہوئے آٹوبان کے دو تہائی حصہ پر گاڑیاں چلانے کے لئے حد رفتار مقرر نہ ہونے پر تیز رفتار گاڑی چلانے والے اپنی مہارت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں۔چونکہ سویڈن میں موٹر وے پر 120کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ گاڑی نہیں چلائی جاسکتی اس لئے میری اہلیہ نے جرمن آٹوبان پر تیز رفتار گاڑی چلانے کا شوق جی بھر کر پورا کیا اور 190 کلومیٹر فی گھنٹہ تک گاڑی چلائی اورمیری درخواست پر انہوں نے اس سے زیادہ رفتار نہ بڑھائی۔ جرمنی میں لہلاتے کھیت بھی دیکھنے کو ملے جن میں پنجاب کی جھلک نظر آئی۔
دریائے سپری کے کنارے واقع برلن شہر جرمنی کی عظیم تاریخ اور ماضی کا گواہ ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب جرمنی کو مغربی اور مشرقی حصوں میں تقسیم کیا گیا تو اس شہر کو بھی دو حصوں میں بانٹ دیا گیا۔ اس دور میں مشرقی برلن سے مغربی برلن جانے کی کوشش میں کئی لوگوں نے اپنی بھی گنوائی۔ سرحد پار کرنے کی کوششوں کو ختم کرنے کے لئے1961میں مشرقی جرمنی کی پولیس نے 254میل لمبی دیوار تعمیر کردی اور بلا اجازت عبور کرنے والوں کے سزائے موت مقرر کردی۔ یہ جبری ناطہ اور جرمن عوام کو تقسیم کرنے والی دیوار 9نومبر 1989ء میں عوامی ریلے کے آگے منہدم ہوگئی اور دونوں حصے آپس میں پھر سے مل گئے۔ یہ ان غاصب قوتوں کے لے بھی پیغام ہے جنہوں نے جموں کشمیر اور دنیا کے کچھ اور علاقوں میں عوام کودیوار برلن جیسی رکاوٹوں اور جبری قوانین سے منقسم کررکھا ہے۔اب دیوار برلن کا صرف ستائیس فٹ حصہ باقی رہنے دیا گیا ہے جسے اب ایسٹ گیلری کا نام دیا گیا ہے اور جس پر دنیا بھر کے مصوروں نے اس پر اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایسٹ گیلری کا یہ علاقہ سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہے اور ساتھ ہی دریا کے کنارے کوئی نہ کوئی سرگرمی جاری رہتی ہے۔ دیوار برلن کے علاوہ اس شہر کی پہچان برانڈنبرگ گیٹ، ٹی وی ٹاور، برلن وکٹری کالم ، آرٹ اکیڈمی اور دوسری اہم تاریخی عمارتیں ہیں۔ اسی شہر میں اردو ادب کی ترویج و اشاعت کے لئے ایک ربع صدی سے بزم ادب قائم ہے جس کے جنرل سیکریٹری سرور غزالی ہیں۔ وہ صاحب طرز ادیب اور منفرد اسلوب کے حامل افسانہ نگار ہیں جن کی کتب ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہیں۔ خواتین اور بچے ساتھ ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی خریداری مرکز کا دورہ نہ کیا جائے۔ برلن کی نواح میں واقع آؤٹ لیٹ میں سب نے جی بھر کے خریداری کی جہاں اشیاء کی قیمتیں بہت مناسب تھیں۔
اگلی صبح ہمارا قافلہ برلن سے روانہ ہوا اور ہمیں وسطی جرمنی سے گذرتے ہوئے ساڑھے آٹھ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے اگلی منزل پہنچنا تھا جو کہ فرانس کا سرحدی شہر مل ہاوس تھا ۔ یہ شہر تین ممالک فرانس، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کے سنگھم پر واقع ہے۔ جرمنی سے جب فرانس داخل ہونے لئے پہنچے تو وہاں سرحد پر فرانس کی مسلح فوج اور پولیس سخت نگرانی کا عمل جاری رکھے ہوئے تھی۔فرانس میں داخل ہونے والی ہر گاڑی کی اچھی طرح جانچ پڑتال کے بعد داخلہ کی اجازت دی جارہی تھی۔ ہمارے قافلہ کی صرف پہلی گاڑی سے پوچھ گچھ کی گئی اور باقی دونوں گاڑیوں کو بغیر کسی چیک کرنے کے داخلہ کی اجازت دے دی گئی۔ فرانس کے اس سرحدی شہر میں قیام کی وجہ یہ تھی کہ اس سے ہم جرمنی ، فرانس اور سوئٹزرلینڈ میں گھوم پھر سکتے تھے۔ طویل سفر کے بعد سب آرام کرنے کے موڈ میں تھے تاکہ اگلے روز سیاحوں کی جنت سوئٹزرلینڈ کی سیر سے لطف اندوز ہوسکیں۔ خوشی قسمتی سے موسم بھی ہمارا پورا ساتھ دے رہا تھا اور دوہزار کلومیٹر سفر طے کرنے کے باوجود تکان کے آثار بچوں سے بھی دور تھے۔ سوئٹزر لینڈ اور واپسی پرجرمنی اور ڈنمارک کے سفر کا احوال دوسری قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں