79

شمالی یورپ سے سوئٹزرلینڈ تک دوسری قسط

د نیا بھر سے سیاح سوئٹزرلینڈ کا رخ کرتے ہیں اور موسم گرما میں تو یہ سلسلہ عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ بلند و بالا سرسبز پہاڑ، بل کھاتی وادیاں، دلفریب نظارے، خوبصورت آبشاریں، نیلگوں اور سبزی مائل پانی کی گہری جھیلیں، فضاوں میں چراہ گاہوں میں پھرنے والی گائیوں کی گھنٹیوں کی مدھر آوازیں اور پر فضا مقامات کسی جنت ارضی سے کم نہیں۔یہ سب سوئٹزرلینڈ کی انٹرلاکن وادی میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ کشمیر میں بھی ہے اسی لئے اسے ایشیا کا سوئٹزرلینڈ کہتے ہیں۔کشمیر کے لئے کیا گیا ہے کہ دنیا میں اگر کہیں جنت ہے تو وہ کشمیر ہے۔
اگر فردوس بر روئے زمیں است ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
سوئٹزر لینڈ کے شہر لوزرن کے اردگرد اونچے پہاڑ اور درمیان سے دریا گذرتا ہے۔ قدرتی حسن کو انسانی ہاتھوں نے جس طرح تراش خراش کر اور بھی حسین بنایا ہے۔ اس خوبصورت شہر میں چئیر لفٹ کے ذریعہ سیاح اس وادی کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ایک پورا دن اسی شہر کے حسن کی نذر ہو گیا اور شام کو باصل شہر کی دیر سے مزا دوبالا ہوگیا۔ باصل کے نواح میں ایک شاپنگ مال ہے جس کی سرحدیں جرمنی، فرانس اور سوئٹزرلینڈ تینوں ممالک سے ملتی ہیں۔ یہاں تینوں ممالک کے جھنڈے لہرا رہے تھے اور تینوں ممالک کے شہری خریداری میں مصروف تھے اور ہمارے کئے بھی خوشگوار تجربہ تھا۔
انٹرلاکن تک پہنچنے کا سفر بھی بہت خوبصورت یے اور دل فریب نظارے جگہ رکنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ انہی حسین وادیوں کی عکس بندی بہت سی فلموں میں بھی کی گء ہے۔ اونچے پہاڑوں اور جھیلوں کی یہ وادی سیاحوں کی منزل ہوتی ہے۔ درمیاں سے گذرتا دریا اس حسن میں اور بھی اضافہ کرتا ہے۔ انٹرلاکن سے خصوصی ٹرین جو عمودی سمت میں خاص پٹری پر چلتی ہے ایک حسین سفر ہے۔ Jungfrau پہاڑی سلسلہ میں دوہزار فٹ کی بلندی پر پہنچ کر اسٹیشن سے باہر آئیں تو وہاں چائے، کافی اور کیک وغیرہ سے تواضع کی جاتی یے جس کی رقم ٹرین کے ٹکٹ میں ہی شامل ہوتی یے۔ یہاں انتہائی بلندی پر اگنے والے پودے سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہوتے ہیں۔ اڑتے ہوئے بادلوں کے درمیان کھڑے ہو کر اس جنت ارضی کا نظارہ ناقابل فراموش ہے۔ ٹرین سے نشیب کی جانب واپسی کا سفر بھی بہت بھلا لگتا ہے اور نگاہیں نظاروں سے ہٹنے کا نام نہیں لیتیں۔ ایک کالم سب تفصیلات کو سمونا محال ہے۔ ایک اور یادگار دن گذار کر ہوٹل واپس پہنچے جہاں سے اگلی صبح واپسی کا سفر شروع کرنا تھا۔ فرانس کے شہر مل ہاوس سے روانہ ہوئے اور جرمنی کے شہر ہان اور میں رات بسر کرنی تھی۔ راستہ میں ہائیڈل برگ رکنے کا پروگرام تھا۔ جرمنی کے اس خوبصورت شہر میں علامہ اقبال نے 1907 میں قیام کیا تھا۔ اس شہر میں آنے کا یہ تیسرا اتفاق تھا اور جب بھی یہاں آنا ہوا ایک عجیب روحانی مسرت محسوس ہوئی۔ اس سرور کی کیفیت کو لفظوں میں لکھنا ممکن نہیں۔ شام کے پہر دریائے نیکر کے کنارے پرفضا مقام پر بیٹھ کر علامہ کی وہ نظم ایک شام جو انہوں نے اسی دریا اور ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے لکھء تھء پڑھیں تو سرور و روحانی مسرت اور بھی بڑھ خاتی ہے۔ یہاں علامہ کے نام سے موسوم اقبال روڈ بھی ہے جبکہ جس مکان میں انہوں قیام کیا اس کے باہر سنگ مرمر کا کتبہ لگا ہوا ہے۔ دریا کے کنارے قد آدم سل پر علامہ کی نظم ایک شام کا جرمن ترجمہ لکھ کر ایک یادگار کی صورت لگایا ہے۔ اس روز موسم بہت خوشگوار تھا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے قافلہ والوں نے دریائے نیکر میں کشتی رانی بھی کی۔ ہائیڈل برگ کے ایک پاکستانی ریسٹورنٹ سے لذیذ اور مزیدار کھانے نے سفر کی تکان بھی دور کردی۔ ہائیڈل برگ کی یونیورسٹی میں جرمنی کی حکومت نے اقبال چئیر قائم کی ہوئی جس کا مقصد فکر اقبال کی ترویج ہے مگر حکومت پاکستان کی غفلت اور لاپرواہی کا یہ عالم ہے کہ تین سال سے یہ چئیر خالی ہے اور پاکستان سے کسی ماہر اقبال کو یہاں نہیں بھیجا گیا۔ فرینکفرٹ میں مقیم معروف ادیب، شاعر اور صحافی سید اقبال حیدر متعدد بار حکومت پاکستان کی اس جانب توجہ مبذول کروا چکے ہیں۔ انہوں نے صدر اور وزیر اعظم کو خطوط بھی لکھے جس کی ایوان صدر سے خط ملنے کی رسید تو مل گئی لیکن عملی طور پر کچھ بی نہیں۔ کیا کوئی حکومت اپنے قومی رہنما کے معاملہ میں اس قدر غافل اور لا پروا ہو سکتی ہے۔
ہائیڈل برگ سے روانہ ہو کر رات جرمنی کے شہر ہان اوور میں بسر۔ یہ بھی بہت پر آسائش ہوٹل تھا اور صبح کا ناشتہ اور بھی شاندار تھا۔ ہمارے وفد کے تمام اراکین نے صاحبزادے حارث کسانہ کا بہت شکریہ ادا کیا جنہوں نے تمام مقامات پر پیشگی ہوٹل بکنگ کی۔ ہان اوور سے روانہ ہوئے تو جرمنی کے مشہور شہر ہمبرگ سے گذرتے ہوئے ڈنمارک اور جرمنی کی سرحدی شہر فلینس برگ پہنچے۔ جرمنی کے اس شہر میں ڈنمارک کے شہری دھڑا دھڑ خریداری کررہے تھے کیونکہ ڈنمارک کی نسبت یہاں قیمتیں کافی کم تھیں۔ کوپن ہیگن پہنچے سے قبل ڈنمارک کے علاقہ جٹ لینڈ سے گذرتے ہوئے سمندر پر سے اٹھارہ کلومیٹر طویل پل سے گذرے۔ یہ پل بھی فن تعمیر کا حسین نمونہ ہے۔ کوپن ہیگن رات بسر کرنے کے بعد شہر کی کچھ سیاحت کی اور وہاں سیاحوں کی دلچسپی کی سب سے بڑی جگہ جل پری کے مقام پر پہنچے۔ ڈنمارک کے عالمی شہرت یافتہ ادیب اینڈرسن کے تخیل کو ایک مورتی کی صورت شامل سمندر پر رکھا گیا ہے۔ کوپن ہیگن میں مقیم اردو کے معروف ادیب اور شاعر نصر ملک نے ڈینش زبان سے اردو زبان میں ترجمہ کرکے ہمارے لئے آسانی پیدا کردی ہے۔ ہمارا پانچ ملکوں کا سفر اختتام پذیر ہورہا تھا اور ہم کوپن ہیگن سے سولہ کلومیٹر پل سے گذرتے ہوئے سویڈن کے شہر مالمو پہنچ گئے۔ یہاں کا نیا شاپنگ مال بہت پر رونق پے اور دیر وہاں رکنے کے بعد سٹاک ہوم اپنے گھر کی جانب رواں دواں ہوئے اور رات دیر گئے اپنے گھر پہنچے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں