96

فون بوتھ لائبریری

سویڈن کا قدیم دارلحکومت سگتونا ایک بہت خوبصورت قصبہ ہے اور موجودہ دارلحکومت اسٹاک ہوم سے پچاس کلومیٹر شامل کی جانب واقع ہے۔ سویڈن کا سب بڑا ہوائی اڈہ بھی سگتونا کی بلدیاتی حدود میں شامل ہے۔
بہت سے سیاح ہر سال اس قصبے کا رخ کرتے ہیں۔ مقامی حکومت نے یہاں کے تاریخی ورثہ کو محفوظ کررکھا ہے اور یہاں ایک چھوٹا سا میوزیم بھی ہے جو اس قصبہ کی سیر کرنے والوں کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔ یہاں اور بھی قابل دید چیزیں ہیں جن میں قدیم بازار بھی ہے جو آج بھی ماضی کی تاریخ کا گواہ ہے لیکن جس چیز نے یہ بلاگ لکھنے پر مجبور کیا وہ یہاں کا پراناٹیلی فون بوتھ ہے۔ ٹیلی فون اور انٹر نیٹ کے شعبہ میں تیز رفتار ترقی نے اب ٹیلی فون بوتھ کی اہمیت ختم کردی ہے ۔ ۱۹۸۰ ء میں سویڈن میں چوالیس ہزار ٹیلی فون بوتھ تھے جو اب معدوم ہوچکے ہیں اور اب کوئی بھی ٹیلی فون بوتھ استعمال نہیں کرتا ، کوئی اکا دکا ٹیلی فون بوتھ شائد کسی ہوائی اڈہ یا بڑے ریلوے اسٹیشن پر موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ زیر استعمال نہ ہونے کی وجہ سے اب انہیں ہٹا دیا گیا ہے لیکن سگتونا کی مقامی حکومت نے اسے ہٹانے کی بجائے ایک چھوٹی سی لائبریری میں بدل دیا اور اس میں عام دلچسپی کے موضوعات کی چند کتابیں اس میں بک شیلف بنا کر رکھ دی ہیں ۔ غالباََ یہ دنیا کی سب سے چھوٹی لائبریری ہے جو چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہے اور جہاں کوئی لائبریرین یا عملہ نہیں۔ لوگ خود آتے ہیں اپنی مرضی کی کتاب بغیر کسی اندارج کے پڑھنے کے لئے لے جاتے ہیں اور پڑھنے کے بعد خود ہی واپس رکھ جاتے ہیں۔ یہ لائبریری سگتونا کے بازار کے مرکزی مقام پر واقع ہے اور ساتھ ایک ایک چھوٹا سا پارک بھی ہے جہاں بیٹھنے کی جگہ موجود ہے اور بہت سے لوگ وہاں بیٹھے مطالعہ کا شوق پورا کرتے ہیں۔ کتابیں پڑھنے کا شوق ان لوگوں کی گھٹی میں ہے اور بچپن ہی سے بچوں کو کتابیں پڑھنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اسکولوں میں بچوں میں کتابیں پڑھنے کا مقابلہ ہوتا ہے اور جو جماعت سب سے زیادہ کتب کا مطالعہ کرے اسے سند امتیاز سے نوازا جاتا ہے۔گھروں، دفتروں، انتظار گاہوں، ہسپتالوں، ہوٹلوں غرض ہر جگہ کتابیں پڑھنے کے لئے موجود ہیں۔ کئی خریداری کے مراکز اور بڑی دوکانوں میں ایک بک شیلف میں کچھ کتابیں رکھ دی جاتی ہیں اور ساتھ نوٹس پر لکھا ہوتا ہے کہ اپنی پسند کی کتاب پڑھنے کے لئے جائیں اور اگر چاہیں اپنی کوئی کتاب پڑھنے والوں کی نذر کردیں اس طرح علم کے فروغ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
سویڈن میں تمام مقامی حکومتوں نے اپنی بلدیاتی حدود کے اہم مقامات پر پبلک لائبریریاں قائم کی ہوئی ہیں جس سے ہر ایک بلامعاوضہ مستفید ہوسکتا ہے۔ آپ کسی بھی زبان میں کسی بھی کتاب کی فرمائش کریں، ادارہ اسے مہیا کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے ۔ پہلے تو پورے ملک میں متعلقہ کتاب کو تلاش کیا جاتا ہے اور نہ مل سکے تو پھر تمام نارڈک ممالک سے اور بعض صورتوں میں کسی بھی یورپی ملک سے بھی کتاب حاصل کرکے متلاشی کو دے دی جاتی ہے اور کوئی معاوضہ نہیں لیا جاتا۔ اسٹاک ہوم کاونٹی چوبیس ہزار جزائر پر مشتمل ہے ۔ جن جزائر پر آبادی ہے وہاں کے رہنے والوں کی علمی پیاس بجھانے کے لئے کشیوں پر لائبریاں قائم کی گئیں جو باقاعدگی سے چکر لگا کر کتابیں بہم پہنچاتی ہیں۔ سویڈش قوم نے علم کی بنیاد پر ہی دنیا میں عزت اور بلند مقام حاصل کیا ہے اور یہ رتبہ دلانے والے اپنے محسنوں کو اس قوم نے بھی یہ صرف یاد رکھا ہے بلکہ عزت افزائی یوں کی ہے کہ بیس، پچاس اور دو سو کرونا کے کرنسی نوٹوں کے سرورق پر ادیبوں اور مصنفین کی تصاویر دی گئی ہیں جبکہ پس ورق میں ملک کے اس حصہ کی تصویر دی گئی ہے جہاں سے ان کا تعلق ہے۔ سویڈن کی عالمی شہرت یافتہ بچوں کے ادیب آسترد لند گرین کے نام پر یورپ میں بچوں کا سب سے بڑا ہسپتال اسٹاک ہوم میں قائم ہے۔ اسی مصنفہ کے نام پر ہر سال دنیا بھر میں بچوں کے ادب کا سب سے بڑا انعام دیا جاتا ہے جس کی مالیت چھ کروڑ روپے بنتی ہے۔ یوں یہ مجموعی طور پر دنیا بھر میں ادب کے لئے دیا جانے ولا دوسرا یا تیسرا بڑا انعام ہے۔ ہر سال فروری کے آخری ہفتہ میں ملک بھر میں کتابوں پر سیل لگائی جاتی ہے اور خریداروں کا ہجوم ایسے ہوتا ہے جیسے ہمارے ہاں جمعہ بازاروں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ سلسلہ ۱۹۲۰ء سے جاری ہے۔ دنیا میں عزت اور وقار اسی قوم کو حاصل ہوتا ہے جو علم کی اہمیت کو جان لیتی ہے۔ سویڈن میں کسی بھی گھر چلے جائیں ایک لائبریری ضرور ملے گی۔ فن لینڈ کے باشندے تو سویڈش لوگوں سے بھی زیادہ ’’پڑھاکو‘‘ ہیں۔ کتابوں کی دوکانیں نہ صرف آباد ہیں بلکہ کتابیں خریدنا اور پڑھنا ان کی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ پاکستان میں کتابوں کی دوکانیں کم ہوتی جارہی ہیں اور کئی جگہوں پر تو کتابیوں کا دوکانوں کی جگہ جوتوں کی دوکانوں نے لے لی ہے۔ ہمارے لوگ دو سو روپے کی کتاب نہیں خریدتے لیکن دو ہزار کا جوتا خرید لیتے ہیں۔ ایک جملہ کہیں پڑھا تھا جو ہے تو ذرا سخت لیکن حقیقت پر مبنی ہے کہ جو قوم کتابوں کی بجائے جوتوں کا اہمیت دے تو پھر جوتے ہی اس کا مقدر ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں