81

صحت مند غزا — ایک اچھی طرز زندگی – قسط نمبر 2 حجم 2

فوائد :

1 ) قوتِ مدافعت میں بہتری :

بہترین غذا سے قوتِ مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے اور ہم بہت ساری بیماریوں سے بچ جاتے ہیں جیسے کہ فلو ، کینسر ،آرتھرائٹس، مختلف طرح کی الرجی اور جسمانی خلیوں کی غیر معمولی نشوونما . مضبوط معدافعتی نظام کی بدولت آپ اپنے اندر طاقت محسوس کریں گے جس سے روزمرہ کے کام بآسانی انجام دے پائیں گے۔

۲) مزاج میں بہتری:

اچھی خوراک کے استعمال سے آپ کے موڈ میں خوشگوار بہتری آئے گی . اِس سے  ذہنی دباؤ میں کمی بھی ہو گی۔ کچھ کھانے ایسے ہیں جن کا انسانی مزاج پر برا اثر پڑتا ہے۔ یہ اشیاء   جنک فوڈ کے زمرے میں آتی ہیں جیسا کہ سوڈا ، ٹافیاں ، جام ، سیرپ ، کاربوہائیڈرئیٹس . ان سے آپ کے خون میں موجود شکر کی سطح متاثر ہوتی ہے نتیجتاً آپ کے موڈ اور توانائی پر برا اثر پڑتا ہے .

محققین نے کچھ ایسے غذائی اجزاء ڈھونڈے ہیں جن سے ہمارے موڈ پر اچھا اثر پڑے گا اور ہم ڈپریشن پر بھی قابو پا سکتے ہیں . جیسا کہ فولیٹ ، اومیگا 3 اور فیٹی ایسڈز ،میگنیشیم ، آئرن ، کرومیم ، زینک ، کیلشیم ، وٹامن بی ۶ ، وٹامن بی ۱۲ ، وٹامن ڈ ی  ۔ 

معدنیات ، وٹامنز    اور فیٹی ایسڈز سے بھرپور غذا نہ صرف صحت بخش ہے بلکہ اِس سے بے چینی اور ڈپریشن بھی ختم ہوتا ہے اور انسان خوش رہتا ہے .

3 ) ذہنی صحت میں اضافہ :

غذائیت سے بھرپور خوراک سے آپکی ذہنی صحت میں اضافہ ہوتا ہے اور آپ کا مدافعتی نظام بھی مضبوط ہوتا ہے . اِس عمل کو محققین نے تحقیق سے بھی ثابت کیا ہے . انسان اپنی اچھی خوراک کے باعث بہت سی بیماریوں جیسا کہ ذہنی دباؤ ،schizophrenia ، Alzheimer, توجہ کی کمی کی بیماری سے بچ سکتا ہے۔ 

کئی اقسام کے کھانے ہیں جن کے استعمال سے دماغ کو تقوییت ملتی ہے مثلاً فربا مچھلی ، ہرے پتوں کی سبزیاں ، اناج ، دہی ، لین پروٹین۔

4 ) توانائی میں اضافہ :

ہماری روزمرہ کی توانائی کا دارومدار اِس بات پر ہے کہ ہم کس قسم کا اور کتنی مقدار میں کھانا کھاتے ہیں . اگر ہم اچھا کھانا کھائیں گے تو اِس سے ہمیں زیادہ توانائی حاصل ہوگی  جیسا کہ میوے ، دہی ، لوکی کے بیج ، جوارانا ، شکرقندی ، سویا بین ، پالک ، انڈے ، پانی وغیرہ۔ 

متوازن اور صحت بخش خوراک کے استعمال سے آپ کا جسم اور دماغ طاقتور ہوں گے تو آپ کی ذہنی صلاحیت میں اضافہ ہو گا  اور آپ اپنے کام بہترین طور پر کر سکیں گے۔ 

5)لمبی زندگی:

زندگی میں کچھ امر ایسے ہوتے ہیں جن پر انسان کا اختیار نہیں ہوتا جیسا کہ ہم کتنے عرصہ تک حیات رہیں گے . لیکن ۹۰ سال کی عمر کے لوگوں سے لی گئی معلومات اور غذائی  اجزاء کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسان کب کیا اور کیسے کھاتا ہے کا گہرا اثر انسانی زندگی کے دورانئیے پر پڑتا ہے۔ 

جاپان کے لوگوں کی عمر سب سے زیادہ ہوتی ہے اور اوکیناوا کے لوگ غیر معمولی طور پر لمبی زندگی جیتے ہیں . اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پوری دُنیا میں اوسطًا عمر ۶۷ ہے جبکہ امریکہ میں ۷۸ اور پیسیفیک آئی لینڈ میں ۸۱ ہے۔ 

اگر آپ ایسی خوراک لیں جو کہ پھل اور سبزیوں پر مشتمل ہو ، غذائی اجزاء سے بھرپور ہو اور کم کیلوریز ہوں تو آپ یقینأ ایک لمبی زندگی جی سکتے ہیں . ایسے ہی کچھ کھانے یہ ہیں : برکولی ، انگور ، سلاد ، ایواکاڈو ، مچھلی ، زیتون کا تیل ، بیر ، پھلیاں ، اناج اور بیج ، بکرے اور گائے کے گوشت سے ممکنا پرہیز ، کیلا اور آرگینک کھانے۔ 

کتنی عجیب بات ہے کہ اتنے واضح فوائد ہونے کہ باوجود لوگ ان سے غافل ہیں اور ان پر عمل کرنے سے قاصر ہیں . اور لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ زہر کھا رہے ہیں۔ 

وہ اِس خیال پر عمل پیراں ہوتے ہیں کہ  لاعلمی ایک نعمت ہے ۔ بلکہ یہی وجہ ہے کہ لوگ بیمار پڑتے ہیں اور کینسر جیسی مہلک بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔

کیا آپ نے وہ مثال سنی ہے کہ روم ایک دن میں نہیں بنایا گیا تھا۔ 

یہی مثال آپکی صحت پر لاگو ہوتی ہے . ایک اچھی اور صحت مند طرزِ زندگی کے لیے وقت اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ آپ اس سے محضوظ ہو سکیں . 

لوگ وقتی مزوں کے لیے مختلف چیزیں کھا لیتے ہیں جیسا کہ چاکلیٹ جبکہ ان کو یہ پتہ ہے کہ پھل اور سبزی کھانے سے ان کو بے پناہ وٹامن اور معدنیات ملیں گے۔ 

لوگ بہت سے بہانے بناتے ہیں جیسے کہ 

  میں صحت مندانہ طرزِ زندگی کا متحمل نہیں ہو سکتا . یہ آرگینک  کھانے بہت مہنگے ہوتے ہیں۔  

 –صحت مند خوراک میرے لیے نہیں ہے. میری صحت پر اس کے استعمال سے کوئی بھی واضح فرق نظرنہیں آتا . میں تو کبھی بیمار نہیں ہو سکتا۔

  میں میٹھا کھانا نہیں چھوڑو گا. زندگی ایک بار ہی تو ملتی ہے۔  

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اپنی پسند کا کھانا چھوڑنا ضروری نہیں اور نہ بدذائقہ کھانے کھائے جائیں۔ آپ کو صرف متوازن غذا کھانی چاہیے اور اپنی سوچ کو تبدیل کرنا چاہیے۔ نجانے کس نے یہ بات مشہور کر دی ہے کہ صحتمند کھانے بدذائقہ ہوتے ہیں۔

غرض یہ کہ آپکو اپنی خوراک پر خوب توجہ دینی ہے اور اپنے آپ سے یہ مسلسل استفسار کرنا ہے کہ کیا اِس خوراک سے مجھے طاقت ملے گی یا پِھر یہ میرے لیے نقصان دہ تو نہیں . اسی طرح آپ اپنے آپ کو اچھی صحت مند خوراک کا عادی بنا سکتے ہیں اور پِھر یہ آپ کو بالکل بھی مشکل نہیں لگے گا۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں