51

چوٹ کے زخم – شکیل خان شکو

چوٹ کے زخم تو بھر جاتے ہیں لیکن
دِل ویراں کے زخموں کو بھرو گے کیسے
یہ رستے توعدم کو جاتے ہیں شکو
ان سفر پہ تنہا چلو گے کیسے

ہمدم تو خار زمین پر چھوڑ گیا ہے
اب قدموں تو تم سنبھالو گے کیسے
کچھ سکھ ، برسوں کے غم دے گئے
فراق غم میں خوشی کو پکارو گے کیسے

ہری آنکھوں میں بے وفائی نہ دکھی تجھے
اپنی خطا پر پردہ ڈالو گے کیسے
بے وفا کہہ کر بھی یاد کرتے ہو انہیں
اپنی آنکھوں کی نمی چھپاؤ گے کیسے

شکیل خان شکو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں