99

انسانیت اور دہشت گردی

قتل انسان کا سرعام ہُوا کرتا ہے
اور نام مسلم کا بدنام ہُوا کرتا ہے

ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اب یہ دہشت گردی پاکستان میں ہو ، ہندوستان میں یا پِھر دنیا کے کسی بھی خطے میں ۔ ایک انسان مرتا ہے ،موت انسانیت کی ہوتی ہے۔
کچھ لوگوں کا سوچنا ہے کے محض خودکش حملے ہی دہشت گردی ہے ۔ اصل میں دہشت گردی دو الفاظوں کا مرکب ہے ” دہشت ” سے مراد خوف و حراص ہے اور گردی لفظ ” گردش ” سے آیا ہے ، تو دہشت گردی کا مطلب کسی بھی خطے یا معاشرے میں خوف و حراست پھیلانا ہے ۔ اب یہ دہشت گردی بم دھماکوں ، لوٹ مار ، چوری ، ڈکیتی یا کسی اور ریاست میں بغیر اجازت اپنے جاسوسی طیارے بھیجنے اور معصوم جانوں کو قتل کرنے کی صورت میں کیوں نا ہو ۔

دہشت گردی کی ایک مثال مقبوضہ کشمیر سے ہم سب واقف ہیں ، کشمیریوں پر ایک نصف صدی سے ظلم كے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں اور آج تک ظلم وستم کا یہ سلسلہ جاری ہے ۔ اور اب برما كے مسلمان اپنے مسلمان ہونے کی سزا کاٹ رہے ہیں ۔ انسان كے ساتھ جانوروں سے بھی بدترسلوک ہورہاہے ، اور اگر غلطی سے وہ انسان مسلمان نکلے تو بس اس کے لیے بد سے بد ترین موت ہے ۔ یہ دیکھ کر دِل دہل جاتا ہے ، آنکھ بھر آتی ہے لیکن اب تو مجھے اپنے آنسووں پر بھی شک ہوتا ہے کے کیا یہ درد کے آنسو ہیں یا محض دنیا كے لیے دکھاوا۔

مجھے اپنے انسان ہونے پر شک ہوتا ہے
جو بھرے آنکھ تو رونے پر شک ہوتا ہے
دیکھا اتنا خون کے اب سب لال دکھتا ہے
مجھے رنگوں کے ہونے پر شک ہوتا ہے

میرا سوچنا ہے کہ دہشت گردی کو روکنا کسی ایک ملک ، ریاست یا پِھر قوم کا کام نہیں بلکہ مطلوبہ نتائج کے لیا پختہ لاعحہ عمل تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص تم میں سے برائی دیکھے اور اسے اپنے ہاتھ سے بدلنے کی استطاعت رکھتا ہو تو اسے اپنے ہاتھ سے بدلے۔ پس اگر وہ استطاعت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے۔ اگر زبان سے استطاعت نہ رکھتا ہو تو دل سے (اسے برا جانے) یہ کمزور ترین ایمان ہے۔(سنن ابی داوُد ،جلد سوئم کتاب الملاحم )
ہاں شاید ہم سب اپنی ذاتی ذمہ داریوں کے سبب برما یا کشمیر تو نہیں جا سکتے لیکن اپنے مسلمان بھائیو ں، بہنوں کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں۔
8ستمبر کو شام ۳سے۶ بجے تک سویڈ ش پارلیمنٹ کے سامنے روہنگا مسلمانوں پر ظلم کے خلاف مظاہرہ ہوگا ، سویڈن میں مقیم لوگوں سے اور خاص طور پر مسلم برادری سے اپیل ہے کے وہ ظلم کے خلاف یکجہ ہوں اور اپنے مسلم بھائی، بہنوں کے لیے دعا کرے ۔

اپنی اِس تحریر کا اِخْتِتام اِس دعا سے کرونگا کہ :
اے میرے پروردگار انسان میں انسانیت دوبارہ پیدا کر دے ، دشمنوں کا خاتمہ کر اور شہیدو کو جنت میں اعلی مقام عطا فرما ، اِس کائنات اور خاص طور پر میرے وطن پاکستان میں امن اور سالامتی فرما- ( آمین )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں