141

میرا خط: کراچی اور برسات – شکیل خان شکو

وعلیکم اسلام ،

تم پردیس میں رہنے والوں کو دیس کی کتنی فکر ہوتی ہے نا ، ہر خط میں میری خیریت پوچنے کے بعد کراچی کا حَال طلب کرتے ہو اور ہر بار یہ کچی امید باندھ لیتے ہو کہ میں کچھ اچھا لکھونگا ، نا میا ں شکو اِس شہر کو تو کسی مردود کی نظر لگ گئی ہے۔

تم تو جانتے ہو کراچی میں ہر چیز کثرت سے ہوتی ہے ، چاہے بچے ہوں یا برسات . آج کل خدا تعالی کی رحمت برس رہی ہے . لیکن شہر پر نظر کرو تو لگتا ہے جیسے کوئی قہر آیا ہو . ایک قہر بجلی کا ، ایک قلت پانی کی ، ایک مسئلہ ٹریفک کا، ایک کہانی سیاست کی . ایک آفَت مہنگائی کی ، ایک مصیبت چوروں کی اور ایک فتنہ ان مذہب کے سوداگاروں کا . آج غالباً 71 برس گزر گئے، ہاے یہ کتنا طویل نازک مور ہے جس سے پاکستان گزر رہا ہے . . بس خدا جانے۔

ہاں تو میں بتا رہا تھا کے برسات اِس شدت سے پورے ایک برس بعد برسی . کہنے کو اِس شہر میں پانی نہیں لیکن فلوقت پورا شہر ہی پانی میں ہے ، ہزاروں لوگ پریشاں ، سینکڑوں مکاں گر گئے، ہاں پارسیوں ، ہندووں اور انگریزوں کی بنائی قدیم عمارتیں ابھی باقی ہیں جو پرانے کراچی کی یاد دلاتی ہیں . کپڑوں کی نا پاکی کے خوف سے لوگ گھروں پر ہی نماز ادا کرتے ہیں ، محمد علی جناح سڑک پر موجود قدیم مندر شری سوامی ناراءن بھی آدھا ڈوب گیا ، ہاے ہمارے ہندو بھائی اب گھروں پر ہی پوجا پاٹ کرتے ہونگے۔

میرےمحلے اُردُو بازار پر خدا کی کچھ زیادہ ہی رحمت ہے ، علاقے کے اندر کی سڑکیں کچی اور گلیاں تنگ ہیں ، بھلہ ہو ان آوارہ بچوں کا جو گلی میں پتھر ،اینٹھیں پھینکتے تھے ، اب چھلانگ لگا کر ان ہی اینٹھوں کے سہارے اپنی آرام گاہ تک پہنچا ، میں جس مکان میں عارضی طور پر مقیم ہوں وہ خاصا پورانہ ہے ، باہر جانے کے دو دروازے تھے ایک جو جمع مسجد کی طرف کھلتا تھا ، گر گیا . اکثر شامیں جس ہجرے میں بسر کرتا تھا وہ بھی جھک گیا اور چھاتیں چھنی ہو گئی ہیں ، ابر دو گھنٹے برسے تو چھت چار گھنٹے برستی ہے ، کتابوں کا ہر ورق بھیگ کر خستہ ہو گیا اور قلم دانی میں سیاہی بھری پڑی ہے . . تمہیں یہ خط کیسے لکھا ، بس میں ہی جانتا ہوں .

تمہارا دوست
شکیل خان شکو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں